Monday, February 5, 2018

بات کیا تجھ سے کروں


بات کیا تجھ سے کروں
دن .............!
کہ مرے ماتھے پر
تیری دستک کی سیاہی میں بجھے جاتے ہیں
کتنی راتوں کی اداسی میں سلگتے ہوے
لفظوں کے اجالے ، جو چھپا رکھے تھے
اپنی سانسوں میں تری رہ پہ بچھانے کے لیے
دن ...................! کہ جلا ڈالے ہیں
اپنے تپتے ہوے ہاتھوں کی کڑی سختی میں
تو نے وہ لوگ ، جو کمہلائی جبینوں پہ اٹھا لاۓ تھے
تیرے جھلسے ہوے چہرے کے لیے رنگ
ترے پاؤں میں دھرنے کے لیے
دن ------کہ اجالے نے ترے
کیسا اندھیر مچا رکھا ہے !
بات کیا تجھ سے کروں رات
کہ آنچل میں ترے ، مونھ چھپاۓ ہوے گھر سوتے ہیں
شہ نشینوں پہ تری چاپ کے ساتھ
کتنی آنکھیں مرے سینے میں ابھر آتی ہیں
تیری بے انت خموشی کے گھنے جنگل میں
کتنے خوابوں کے خنک چاند اتر جاتے ہیں
اور شاخوں سے تری
کوئی مہکار تلک آتی نہیں
تیری آواز مجھے بھاتی نہیں
بات کیا تجھ سے کروں عمر ----!
کہ تھک جاتا ہوں
اور نمناک منڈیروں سے تری
میرے دن رات پھسل جاتے ہیں
تیری ممتا بھری چھاتی کی دکھن
میرے ریشوں میں اتر جاتی ہے
اور اڑتے ہوے بالوں میں ترے
میری آواز بھٹک جاتی ہے

(ابرار احمد)

No comments:

Post a Comment